حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے زیرِ اہتمام یونیورسٹی طلباء کے لیے تین روزہ تعلیمی و تربیتی ورکشاپ 9، 10 اور 11 اکتوبر 2026ء کو حیدرآباد میں منعقد ہوا؛ جس میں مختلف جامعات کے طلبہ نے شرکت کی۔

ورکشاپ کے انعقاد کا مقصد طلبہ کی فکری، علمی، دینی اور تربیتی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے ساتھ انہیں عصرِ حاضر کے علمی و فکری چیلنجز سے آگاہ کرنا تھا۔
ورکشاپ کے پہلے روز کی کارروائی کا آغاز برادر حسین حیدر کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد شرکاء نے اپنا تعارف پیش کیا۔
اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر برادر سید دانیال کاظمی نے افتتاحی خطاب میں ورکشاپ کے اغراض و مقاصد بیان کیے؛ بعد ازاں مفکرِ اسلام استاد انجینئر سید حسین موسوی نے ’’انسان کی زندگی میں دین کی ضرورت اور اہمیت‘‘ کے موضوع پر تفصیلی خطاب کیا۔
ورکشاپ کے دوسرے روز مختلف علمی و تربیتی نشستوں کا انعقاد کیا گیا۔
پہلی نشست میں ڈاکٹر سمر رضا سولنگی نے ’’یونیورسٹی کے طالب علم کی ذمہ داریاں‘‘، مولانا سید ابصار حسین نقوی نے سورۂ حجرات کی تفسیر اور ڈاکٹر سید ریحان شاہ کاظمی نے ’’مصنوعی ذہانت: استعمال، مواقع اور چیلنجز‘‘ کے موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔

دوسری نشست میں انجینئر مظہر حسین نے ’’طالب علم سے اسکالر تک: علم حاصل کرنے کا فن‘‘ جبکہ مولانا غلام رضا سریوال نے ’’نماز کی اہمیت و آداب‘‘ کے موضوع پر گفتگو کی۔
آخری نشست میں مفکرِ اسلام انجینئر سید حسین موسوی نے ’’انسان شناسی اور وجودِ خدا کے دلائل‘‘ کے موضوع پر مفصل خطاب کیا، جس کے بعد سوال و جواب کی نشست بھی منعقد ہوئی۔
ورکشاپ کے تیسرے اور آخری روز علمی و فکری موضوعات پر متعدد لیکچرز دیے گئے۔

اس موقع پر مولانا غلام شبیر کنھیو نے ’’فکرِ شہید رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای اور رہبرِ معظم سید مجتبیٰ خامنہ ای کا تعارف‘‘، مولانا غلام قاسم تسمینی نے ’’علمی میراث کا تعارف‘‘، ڈاکٹر منور علی پنھجارو نے ’’بیرونِ ملک کیریئر کے مواقع‘‘ جبکہ سید پسند شاہ رضوی نے ’’سرد جنگ، جدید فکری چیلنجز اور عالمی منظرنامہ‘‘ کے موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔
اختتامی نشست سے اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر برادر سید دانیال کاظمی نے خطاب کیا۔

انہوں نے ورکشاپ میں شرکاء کی علمی و تربیتی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کو سراہتے ہوئے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ فکری، اخلاقی اور دینی تربیت کو بھی خصوصی اہمیت دیں۔
پروگرام کے اختتام پر امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔










آپ کا تبصرہ